غریبوں کا معاشی قتل

Share on facebook
Facebook
Share on twitter
Twitter
Share on linkedin
LinkedIn
Share on whatsapp
WhatsApp

تحریر. خادم رسول کیانی

حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے غریب عوام کا معاشی قتل ہو رہا ہے.. بار بار لاک ڈاون سے غریب بھوک سے مرنے لگے پورے پاکستان میں اسمارٹ لاک ڈاون کی کیفیت ہےگلیاں محلے سیل ہو چکے ہیں لوگ گھروں میں محصور ہیں. نہ کام پر جا سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی کام چل رہا ہے. ناقص حکمت عملی کی وجہ سے لوگ موت کو ترجہی دینے کو تیار ہیں وزیر اعظم عمران خان کو سب اچھے کی رپورٹ دی جا رہی ہے..

پی ٹی آئی بری طرح ناکام ہوتی دکھائی دے رہی ہے اگر ایسا ہی رہا تو آنے والے دنوں میں پی ٹی آئی نام و نشان مٹ جائے گا کیونکہ کوئی بھی کام ڈھنگ سے نہیں ہو رہا….

میں نے پہلے بھی کئی بار لکھا ہے کہ ریاست کی زمہ داری ہے کہ غریب عوام کا خیال رکھے اب جو علاقے سیل کئیے گئے ہیں ان کو راشن مہیا کرنا کس کی زمہ داری ہے وہ لوگ کس کے آگے فریاد کریں جو لوگ اپنے گھروں میں بند ہیں ان کا پرسان حال کون ہے ..یہ تو باندھ کر مارنے کے مترادف ہے..

بادامی باغ گلی نمبر 4اور صدیق پورہ میں جو گلیاں سیل کی گئیں ہیں وہ تو بلکل ناجائز سیل کی گہیں ہیں کیونکہ ان گلیوں میں کوئی بھی کرونا پیشنٹ نہیں ہے اور آمدو رفت بھی زیادہ نہیں ہے. ان گلیوں کے مکینوں کی حالت زار دیکھ کر بہت دکھ ہوا نہ ان کے پاس پیسہ اور نہ راشن انتہائی غریب لوگ ہیں جو بغیر کسی جرم کے سزا کاٹنے پر مجبور ہیں گلیاں سیل کرنے کے دوسرے دن ایک ٹیم نمودار ہوئی جس میں سابقہ پٹواری بھی موجودہ تھا

تمام متاثرہ گھروں کی لسٹ بنائی گئی اور ان کو راشن دینے کا جھانسہ بھی دیا گیا کہ کل آپ سب کو راشن مل جائے گا غریب لوگ وقتی طور پر خوش ہو گئے لیکن 10 روز گزر جانےکے بعد بھی کوئی واپس نہ آیا… نہ وہ کام پر جا رہے ہیں اور نہ ہی ریاست نے زمہ داری پوری کی. کہاں جاہیں وہ لوگ جن کے بچے بھوکھے ہیں جن کا چولہا بلکل بند ہے جنہیں ادھار بھی کوئی نہیں دیتا. جن کے بچوں کو دودھ تک نصیب نہیں ہوتا. یہ ریاست مدینہ ہے. شرم آنی چائیے ….ریاست مدینہ کہتے ہوئے.

سفید پوش لوگ تو جیتے جی مر چکے ہیں سفید کالر کتنا میلا ہو چکا ہے آپ کو کیسے معلوم ہو گا ..مفلسی ان لوگوں کا مقدر بن چکی ہے کبھی کچی آبادیاں دیکھی ہیں آپ نے؟

کبھی دیکھا ہے کہ کچی آبادیوں میں رہنے والے کیسے گزارا کرتے ہیں کیا کھاتے ہیں اور ان کے مسائل کیا ہوتے ہیں یہ روزانہ کی بنیاد پر دیہاڑی کمانے والے لوگ ہیں جو آپ نے گھروں میں بند کر دئیے ہیں ..آپ کو تو اللہ نے نواز دیا. کرسی بھی دے دی. پروٹوکول کے ساتھ عیش و آرام سے وقت گزار رہے ہیں .. غریب کو تو دو وقت کی سوکھی روٹی چائیے .

آپ نے وہ بھی چھین لی.. آپ جواب دہ ہیں آپ کو خدا کے آگے جواب دینا ہوگا خدارا ریاست مدینہ کہنا چھوڑ دو. ورنہ ایک کتابھی بھوکا مر گیا تو زمہ داری آپ پر ہو گی کاش آپ غریبوں کا درد محسوس کرتے. ان کی آہ. و بکا سنتے. کاش اس قابل ہوتے کہ سن سکتے کہ دیار وطن میں غریب کے بچے کس طرح بلبلا رہے ہیں کس طرح ان کی حسرتوں کو قتل کیا جا رہا ہے. دیار وطن میں کس طرح بچے دودھ کو ترس رہے ہیں.کس طرح ماہیں اپنے لخت جگر کو بھوک سے بلبلاتے دیکھ کر خود کشیاں کر رہی ہیں باپ پچوں کی خوشی کیلیے اپنی جان تک بیچ دیتا ہے .

دن رات محنت کر کے بچوں کی خوائیش کو پورا کرتاہے..لیکن بے رحم لوگوں نے باپ کے نکلنے پر بھی پابندیاں آئد کر دی ہیں باپ کے پیروں میں بے حسی کی ایسی زنجیریں پہنا دی ہیں کہ وہ بلکل بے بس ہو کر رہ گیا ہے وہ سارا دن باہر کے دروازے کو تکتا رہتا ہے کہ کب ہم آزاد ہونگے. کب آواز آئے گی کہ جاو اپنا اپنا کام کرو اور میں بچوں کی خوشیاں پوری کرنے کیلیے پھر دیہاڑی پر نکلوں گا. کہ شائد بچوں کے آنسوں پونجھ سکوں..

میں نے اپنی 64سالہ زندگی میں اتنے برے حالات کبھی بھی نہیں دیکھے. ہم نے مارشل لاء بھی دیکھے ہیں. کوڑے لگتے بھی قریب سے دیکھا ہے .حکومتیں بدلتی بھی دیکھی ہیں تخت الٹتے بھی دیکھے ہیں. دہشت گردی کا دور بھی دیکھا ہے. ڈکٹیٹر بھی دیکھے ہیں ہر دور میں سکھ اور چین کی کی بانسری بھی بجتے دیکھی ہے. میرا ملک تو امن کا گہوارہ ہے لیکن جو آج حالات ہیں ایسے حالات کبھی نہیں دیکھے .آج ہماری زندگیوں میں محرومیوں نے ڈیرے ڈال لیے ہیں شائد ہم سے کوئی کبیرہ گناہ سر زد ہوا ہے شائد ہم سے کوئی بڑی غلطی ہوئی ہے جس کی ہمہیں سزا مل رہی ہے

اے خدا ہم تم سے تیرے محبوب کے صدقے اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں اے خدا ہمیں معاف فرما اور حکمرانوں کو عقل سلیم سے نواز دے تاکہ غریب کا درد محسوس کر سکیں.