بیس روپے کی عینک

Share on facebook
Facebook
Share on twitter
Twitter
Share on linkedin
LinkedIn
Share on whatsapp
WhatsApp

تحریر : راشد پٹھان انچارج ٹریفک عبداللہ پور

آج سہ پہر 3 بجے کینال روڈ پر گشت کرتے ہوئے ایک چھوٹے سے بچے پر نظر پڑی جو کہ ایک عینک والے سٹال کو بڑے غور سے دیکھ رہا تھا۔اس کے انہماک کو دیکھ کر تجسس ہوا تو ڈرائیور عاصم خان سے کہا کہ گاڑی روکو کچھ دیر اسے دیکھنے کے بعد اس کی تصویر بنا لی۔لیکن وہ بچہ اس بات سے بے خبر رہا کہ اس کے پاس پولیس کی گاڑی رکی ہے اور اسے دیکھا جا رہا ہے۔

اسی دوران سٹال والے خوچے پٹھان نے بچے سے کہا( ووئے لاکا لینا ہے تو لو نییی تو جاؤ ادھر سے ووئے دیکھو صاحب بھی آ گیا ہے) بچہ جانے لگا تو میں نے آواز دے کر بلا لیا اور پوچھا کہ بیٹا کیا تمہیں عینک چاہیے تو بولا نییں صاب جی۔۔ سٹال والے خوچے پٹھان سے پوچھا تو وہ بولا کہ صاحب یہ ام کو بولتا ہے کہ بیس روپے کا عینک دکھا دو۔۔ام اس کو کہاں سے 20 کا دےدے۔؟؟

اس بچے کو پیار سے دوبارہ بلایا اور کہا کہ بیٹا میں تمہارا چاچو ہوں بتاؤ عینک چاہیے۔۔۔۔۔
تو بچے کے حالات و واقعات سے تعارف کچھ یوں ہوا کہ سایکل پر ماسک بیچتا ہے کبھی کبھی چھوٹی موٹی چیزیں بیچتا ہے سربراہ کے دنیا سے چلے جانے کے بعد گھر کا ننھا سا لیکن مضبوط اعصاب کا حامل یہ اب نیا سربراہ ہے۔ اس کے مطابق عید کے آنے پر اس کے بابا جب دیہاڑی کرتے تھے تو اس کے لئے عینک خرید کر لاتے تھے کئ بار گاؤں میں لگنے والے سٹال سے یا گاؤں کی چھوٹی دکان سے مختلف رنگوں پر مشتمل 20 روپے کی عینک آتی تھی ۔

بابا کے چلے جانے کے بعد عید آئ تو ہے لیکن عینک 20 روپے والی نہیں ہے ۔آج 120 روپے کمائے ہیں جب تک 100 روپے لیکر گھر نہ جاؤں تو چولہا نہیں جلتا۔اس لئے سٹال والے سے کہا کہ 20 روپے کی عینک دے دو۔ اپنے آنسو چھپانے کے لئے مجھے جلدی سے اپنی عینک پہننی پڑی تو بچہ بولا کہ چاچو آپ تو عینک میں بڑے افسر لگتے ہیں.

گاڑی سے باہر نکلا بچے سے کہا کہ بیٹا کونسے والی عینک پسند ہے لے لو۔۔بچے نے اپنی پسند کی عینک لی اور پوچھا چاچو میں بھی آپ کے جیسا پولیس والا لگ رہا ہوں اب۔۔تو میں نے کہا کہ ہاں بیٹا تم بہت بڑے پولیس والے لگ رہے ہو۔ سٹال والے کو بچے سے چھپا کر پیسے دئے کہ بچے کو کمتری کا کوئ احساس نہ ہو۔۔

اس نے اپنی سایکل کی ٹوکری سے ایک ٹافی نکال کر مجھے دی میں نے مسکرا کر اس کے سامنے کھالی بچے نے خوایش کی کہ عینک لگا کر سایکل چلاؤں گا تو کیسا لگوں گا تو اس کی تصویر بنا کر دکھائ کہ بیٹا ایسے لگو گے۔۔اس کے چہرے پر دکھنے والی خوشی شائد الفاظ میں بیان نہ کر سکوں وہ شائد اپنی ایک چھوٹی سی دنیا میں خود کو اس سلطنت کا ہیرو سمجھ رہا تھا۔اس چیز سے بالا تر کہ اس کے پاس کپڑے ہونگے یا نہیں لیکن ایک عینک اسے اس کے والد کے ساتھ گزاری ہوئ عید کی خوبصورت یادوں پر مبنی دنیا میں لے گئ ہوگی ہم لاکھوں کی گاڑیوں میں بیٹھ کر شاید یہ اندازہ نہیں کر سکتے ۔۔

جزبات کو سمجھنے اور احساسات کو پرکھنے کے لئے آنکھیں واحد راستہ ہوتی ہیں۔۔ اپنے روز و شب کے مشغلوں سے باہر آ کر ہمیں کبھی دوسروں کو بھی غور سے دیکھنا چاہیے کیونکہ کسی کی عید کی خوشیاں کبھی کبھی ہمارے ایک سو روپے کی محتاج ہوتی ہیں۔