حوا کی بیٹی سسرالیوں کے ظلم کا شکار

Share on facebook
Facebook
Share on twitter
Twitter
Share on linkedin
LinkedIn
Share on whatsapp
WhatsApp

حویلی لکھا پولیس نے فوری کاروائی کرتے ہوئےمقدمہ درج کرکے دوملزم کوگرفتار کر لیا

مظلوم تنذیلہ کے بھائی کو بلا کر بہن بھائیوں پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔۔تفصیل کے مطابق۔نواحی گاؤں 14/D کی رہائشی تنذیلہ بی بی کی شادی حویلی لکھا محلہ راٹھورانوالہ کے رہائشی اللہ دتہ درزی سے عرصہ قبل پانچ سال ہوئی اکثر اوقات شوہر۔جیٹھ اور ساس مظلومہ تنذلیہ بی بی کو تشدد کا نشانہ بناتے رہتے تھے.

گذشتہ دنوں تنذیلہ کے شوہر اللہ دتہ درزی نے بہین کے ساتھ جھگڑا کیا اور مارپیٹ کر گھر سے نکال دیا جس پر تنذیلہ کے جیٹھ غلام علی اور ساس اسماء نے الزام عائد کیا کہ یہ سب تنزیلہ نے کروایا ہے .

تنذیلہ کے جیٹھ اور ساس نے مل۔کر مظلوم تنزیلہ پر وحشیانہ تشدد شروع کر دیا اس دوران جیٹھ غلام علی قینچی اور بلیڈ لے آیا اور اپنی والدہ سے کہا کہ آج اسے نشانہ عبرت بنا دیتے ہیں یہ کہتے ہی ظالم جیٹھ غلام علی نے تنذیلہ کے سر کے بال قینچی سے کاٹنے شروع کر دیے دونوں ماں بیٹا باری باری سر کے بال قینچی اور بلیڈ سے کاٹتے رہے اس دوران تنزیلہ کا شوہر اللہ دتہ بھی آ گیا جس نے ماں اور بھائی کو روکنے کی بجائے اپنی بیوی پر تشدد شروع کردیا اور کہتا رہا کہ آج اسے جان سے مار دیں گے۔

بعدازاں تنذیلہ کے بھائی شفیق کو کال کر کے بلایا گیا اس کے آتے ہی اللہ دتہ اور غلام علی آپے سے باہر ہو گئے اور کہا کہ آج ان بہین بھائیوں کو یہی مار دو یہ کہتے ہی ظالموں نے بہین بھائیوں پر حملہ کر کے تشدد شروع کر دیا اس دوران محلہ داروں اور گلی سے گزرنے والے لوگوں نے ملزمان کی منت سماجت کر کے بڑی مشکل سے جان بخشی کروائی۔