آزاد ریاست. عزم عالیشان. پیارا پاکستان

Share on facebook
Facebook
Share on twitter
Twitter
Share on linkedin
LinkedIn
Share on whatsapp
WhatsApp

تحریر : خادم رسول کیانی

انسان کسی چیز کے حصول کیلیے سب سے پہلے اس خیال کو دل و دماغ میں لاتا ہے .اس چیز کا تصور کرتا ہے اور اسے اپنے خوابوں اور خیالوں میں بنا ہوا دیکھتا ہے وہ ایک آئیڈیل اور اس چیز کا مکمل عکس زہن میں رکھتے ہوئے آگے کی سوچتا ہے کہ اسے حاصل کیسے کرنا ہے اور اس کیلیے کیا کچھ کرنا ہے وہ اپنی خالص محنت اور لگن کی بنا پر اس خواب کو اس تصور کو حقیقت میں بدل دیتا ہے اور اس کا خواب جب حقیقت کا روپ دھار لیتا ہے تو اس کے ثمرات آنے والی نسلوں کے لیے راحت اور سکون کا باعث بنتے ہیں.

آج کے جدید دور میں جہاں ہمیں ساری سہولیات میسر ہوں ٹیکنالوجی انسان کیلیے آسانیاں پیدا کر رہی ہوں میڈیا اور سوشل میڈیا.. اور انٹر نیٹ کے زریعے آپ کا پیغام ایک کلک سے ہزاروں لاکھوں لوگوں تک چند سیکنڈ میں پہنچ جاتا ہو تو آپ کو اپنی بات منوانے اور پورا کرنے کیلیےکسی قسم کی لمبی چوڑی پلاننگ کی ضرورت نہیں ہوتی لیکن آپ تصور کریں آج سے لگ بھگ 92سال قبل کسی نے تصور کیا ہو.کہ اس قوم کو ایک آزاد اورخود مختیار ریاست بنائی جائے جس میں قوم کے لوگ آزادی سے زندگی بسر کر سکیں..

ر طرح سے انہیں مزہبی آزادی حاصل ہو لیکن دوسری طرف ایسا علاقہ جو غلامی کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہو جہاں آزادی کے بارے میں بولنا تو در کنار سوچنا بھی جرم ہو تو تصور کریں کہ72 سال قبل آزاد ہونے والا ہمہارا پیارا پاکستان جس کے حصول کیلیے ہمہارے بزرگوں نے کتنی قربانیاں دیں ہوں گی کتنے ظلم اور جبر سہے ہونگے جہاں اس دور میں عوام میں شعور بیدار کرنے کیلیے ان کے پاس کسی قسم کا میڈیا نہ تھا .

سوائے چند اخبارات کے جنہیں اکثر پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا آئے دن مالکان کو کوڑے مارے جاتے پریس کو آگ لگا دی جاتی تھی لیکن اس کے باوجود آزادی کے متوالوں کے حوصلے بلند تھے اور آزادی کا پیغام بچے بچے تک پہنچ رہا تھا پاکستان کی نظریاتی اساس ریاست مدینہ کے اعلی تصورات پر رکھی گئی جن میں حاکمیت اعلی کا مالک رب زولجلال ہے اور اس کے بندے اس کے خلیفہ کی حیثیت سے اس کی طے شدہ حدود میں اقتدار کرنے کے مجاز ہیں .

ہندوستان میں ہندووں کی غالب اکثریت جب مسلمانوں کا دینی اور تہزیبی تشخص مٹانے اور ان کے سیاسی اور معاشی وجود ختم کرنے کے در پے ہو گئی اس دور میں مسلمانوں کے حالات بڑے ناخوشگوار تھے بلکہ حد درجہ تشویش ناک تھےہندوستان میں وہ نظام جاری تھا جس میں مختلف قوموں کیلیےاپنے نظریات کے مطابق آزادانہ زندگی گزارنے کی گنجائش نہیں تھی بر صغیر میں مسلمان ہر لحاظ سے جداگانہ قوم تھی .ان حالات کے پیش نظر ڈاکٹر علامہ اقبال نے آزاد مملکت کا تصور پیش کیا.

1930میں آل انڈیا مسلم لیگ کا اجلاس جو الہ آباد میں ہوا اسی موقعہ پر خطبہ صدارت میں ڈاکٹر علامہ محمد اقبال نے پہلی مرتبہ آزاد اسلامی ریاست کی صدا بلند کی. اور مسلمانوں کے سامنے نصب العین پیش کیا جسے پورا کر لینے پران کے مستقبل کی کامیابی موقوف تھی یقینا اس خطبے کو پاکستان کی..

بنیاد کی وہ پہلی اینٹ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا جس پر اب بلند پاکستان کھڑا ہے .خطبہ الہ آباد میں پیش ہونے والے تصور کیلیے مسلم راہنماوں نے اپنی جستجو جاری رکھی.جس کیلیے ان راہنماوں نے قوم کی آزادی کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کر دیا بالاآخر دس سال بعد وہ دن بھی آگیا جب قرار داد پاکستان پیش کی گئی.

جب قائد اعظم محمد علی جناح فرینٹیر میل کے زریعے لاہور ریلوے اسٹیشن پر پہنچے تو جہاں لوگوں کا جم غفیر آپ کے شاندار استقبال کیلیے موجود تھا اور تاریخ بتاتی ہے کہ لاہور کے ریلوے سٹیشن پر تل رکھنے کی بھی جگہ نہیں تھی مسلمانوں کا جوش و خروش قابل دید تھا اور لاہور کی فضاء فلگ شگاف نعروں سے گونج رہی تھی اور تصور کریں کہ آج کے دور کا میڈیا بھی نہ تھا آج تو جلسہ گاہ کو بھرنے کیلے ہرطرح کےوسائل استعمال کیے جاتے ہیں.

دہاڑی پر بندے کرسیوں پر سجائے جاتے ہیں اور دیگیں چڑھائی جاتی ہیں ویسے بھی بریانی کی خوشبو سے ہی ہمہاری قوم خوش ہو جاتی ہے یہ اور بات ہے کہ بریانی ملے یا نہ ملے؟ لیکن اس وقت نہ ہی بریانی ہوتی تھی اور نہ ہی وہ قوم بریانی پہ بکنے والی تھی اور ڈی جے بھی نہ تھا جس کے میوزک سے جسم تھرکتے یا جھلکتے ہوں بس اس وقت لوگ بھی خالص تھے اور نیتیں بھی صاف تھیں کچے گھروں میں رہنے والے پکے مسلمان تھے اور آزادی کی محرومی کو اچھی طرح محسوس بھی کرتے تھے 23مارچ 1940کو قائد اعظم کی زیر صدارت منظور کی گئی.

قرار داد پاکستان نے تحریک پاکستان میں نئی روح پھونک دی جس سے بر صغیر کے مسلمانوں میں ایک نیا جوش و ولولہ پیدا ہوا یہاں یہ امر قابل زکر ہے کہ آل انڈیا مسلم لیگ کی طرف سے پیش کی گئی قرار داد کو اس وقت… قرار داد لاہور.. کا نام دیا گیا تھا جس کو دشمنان اسلام و پاکستان نے طنزیہ طور پرقراد پاکستان.کے نام سے پکارنا شروح کر دیا تھا.

اسی دن سے قرار داد لاہور ..قرار داد پاکستان کے نام سے مشہور ہو گئی اور مسلمانوں نے اس نئے نام یعنی. قرار داد پاکستان کو بخوشی قبول کر لیا. قائد اعظم محمد علی جناح نے ہندووں اور مسلمانوں کے جداگانہ قومیتی وجود کو حقیقی فطرت قرار دیتے ہوئے اس موقعہ پر اپنی تقریر میں فرمایا. ہندووں کی سمجھ میں کیوں نہیں آتا کہ اسلام اور ہندو ازم مزہب کے عام مفہوم ہی نہیں بلکہ واقعی دو جدا گانہ اور مختلف اجتماعی نظام ہے اور یہ محض خواب ہے کہ ہندو اور مسلمان کبھی ایک مشترکہ قوم بن سکے گی.

قرار داد پیش ہونے کے ٹھیک سات دن بعد دنیا کے نقشے پر وہ ریاست قائم ہوئی حس کا خواب دیکھا گیا تھا آج ملک کو آزاد ہوئے 72سال سے زیادہ عرصہ بیت چکا ہے آج ہم دنیا کی پہلی ایٹمی اسلامی ریاست ہیں ہمہاری فوج دنیا کی بہترین فوج ہے اور ہمہاری قوم پوری دنیا میں خوش رہنے والی قوموں میں شمار ہوتی ہے حالات کی سنگینیوں کے باوجود ہم وہ قوم ہیں.جس نے دوسروں کی جنگ میں 70ہزار شہری اپنے شہید کروائے 80ارب ڈالر کا بھی اپنا نقصان کروایا.

ہمہارے ملک کا یہ حال ہے کہ 22کروڑ آبادی میں 2کروڑ بچے سکول جانے سے قاصر ہیں سیاست دانوں کی بات کریں تو تین سو عرب ڈالر کا سرمایہ کرپشن کے زریعے بوتل میں بند کر کے باہر منتقل کر دیا یہ کرپٹ لوگ ملک میں نہ جائیدایں رکھتے ہیں اور نہ ہی اولادیں لیکن حکومت کرنے کیلیے انہیں ملک کی یاد آ جاتی ہے انہیں لوگوں کی نااہلی اور اقتدار کے لالچ نے مشرقی پاکستان کو بنگلا دیش بنا دیا آج ہم جن مسائل اور مشکلات کا شکار ہیں صرف اور صرف نااہل قیادت کی وجہ سے ہیں ہمہارے بعد آزادی حاصل کرنے والے ملک ترقی پزیر ہو چکے ہیں پاکستانی قوم کے جزبے بلند ہیں اسی لیے تو ہم خوش رہنے والی قوموں میں شمار ہوتے ہیں جب کہ قائد اعظم محمد علی جناح کی وفات کے بعد لیڈر شپ کا جو خلا پیدا ہوا وہ تاحال پر نہ ہو سکا اگر آج کی سیاسی قیادت صرف اپنی زات کے بارے میں یا اپنے مفادات کے بارے میں سوچنا چھوڑ دے تو پاکستان دنیا میں تیزی سے ترقی کرتا ہوا ملک بن سکتا ہے ہمہیں قائد اعظم کے بنائے ہوئے پاکستان کو آگے لے کر چلنا ہےنہ کے نیا پاکستان بنانا ہے.