سعودی عرب کی تاریخ

Share on facebook
Facebook
Share on twitter
Twitter
Share on linkedin
LinkedIn
Share on whatsapp
WhatsApp
تحریر: جی ایم مصطفی

عرب شریف میں 1922 تک ترکی کی حکومت تهی.جسے خلافت_عثمانیہ کے نام سے جانا جاتا هے.1922سے پہلے سعودی عرب کا نام سعودی عرب نہیں بلکہ حجازِ مقدس تھا۔

خلافت عثمانیہ دنیا کے تین براعظموں پر 623 سال (1299-1922) تک قائم رہی۔
جب بهی دنیا میں مسلمانوں پر ظلم و ستم هوتا تها تو ترکی حکومت اس کا منہ توڑ جواب دیتی.امریکہ ، برطانیہ ،یورپین ، نصرانی اور یہودیوں کو اگر سب سے زیادہ خوف تها تو وہ خلافتعثمانیہ حکومت کا تها. امریکہ ، یورپ جیسوں کو معلوم تها کہ جب تک خلافتعثمانیہ هے’ هم مسلمانوں کا کچھ بهی نہیں بگاڑ سکتے هیں.
امریکہ و یورپ نے خلافتعثمانیہ کو ختم کرنے کی سازش شروع کی. 19ویں صدی میں سلطنتِ عثمانیہ اور روس کے درمیان بہت سی جنگیں بھی ہوئیں چونکہ مکہ اور مدینہ مسلمانوں کےنزدیِک قابلِ احترام ہیں اسی لیے سب سے پہلا فتنہ وہیں سے شروع کروایا۔ امریکہ یورپ نے سب سے پہلے اک شخص کو کهڑا کیا جو کرسچیئن تها ‘ ایسی عربی زبان بولتا تها کہ کسی کو اس پر شک تک نہیں ہوا اس نے عرب کے لوگوں کوخلافتعثمانیہ کے خلاف یہ کہہ کر گمراہ کرنے کی ناکام کوشش کی کہ تم عربی هو اور یہ ترکی عجمی(غیر عربی) هیں هم عجمی کی حکومت کو کیسے برداشت کر رهے هیں
پر لوگوں نےاسکی ایک نہ مانی.
یہ شخص “لارنس آف عریبیہ” کے نام سےمشہور هواجو آپ کو اس پوسٹ کی تصویر میں بھی نظر آ رہا ہے۔(آپ لارنس آف عریبین لکھ کر گوگل پر سرچ کرسکتے ہیں)
پهر امریکہ نے ایک شخص کو کهڑا کیا جس کا نام عبدالوهاب نجدی تھا۔
عبدالوهاب نجدی کی ملاقات عرب کے ایک سوداگر سے هوئی جس کا نام ابن سعود تها اس نے ابن سعود کو عرب کا حکمران بنانے کا لالچ دیا۔
پهر ابن سعود نے مکہ ، مدینہ اور طائف میں ترکی کے خلاف جنگ شروع کر دی
مکہ ، مدینہ شریف اور طائف کے لاکهوں مسلمان ابن سعود کی ڈاکو فوج کے ہاتهوں شہید هوئے جب ترکی نے دیکها کہ ابن سعود همیں عرب سے نکالنے اور خود عرب پر حکومت کرنے کے لیے مکہ ، مدینہ اور طائف کے بے قصور مسلمانوں کو شہید کر رها هے تب ترکی نے عالمی طور پر یہ اعلان کر دیا کہ
“هم اس پاک سرزمین پر قتل و غارت پسند نہیں کرتے”
اس وجہ سے خلافتعثمانیہ کو ختم کر دیا گیا۔جس کی وجہ سے 40 نئے ممالک وجود میں آئے۔ پهر عرب کے مسلمانوں کا زوال شروع هوا حجازمقدس کا نام 1400 سال کی تاریخ میں پہلی بار بدلا گیاابن سعود نے حجازمقدس کا نام اپنے نام پر سعودیہ رکهہ دیا.. اور اس فتنے کا ذکر احادیث میں بھی ملتاہے اور اسی وجہ سے سرکارِ دو عالمﷺ نے سعودی عرب کے شہر نجد کے بارے میں دعا نہیں فرمائی تھی ۔ اسی نجد میں ابن عبدالوهاب نجدی پیدا ہوا جس سے انگریزوں نے ایک نئے مذہب کی بنیاد ڈلوائی اور یہی شہر مسیلمہ کذاب کا جائے پیدائش بھی ہے۔لیکن دنیا بھر کے مسلمانوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئیے انگریزوں نے اس ’نجد‘ شہر کا نام بھی تبدیل کر کے ’ریاض‘ رکھ دیا جو آج کل سعودیہ کا دار الحکومت ہے۔ جنت البقیع اور جنت المعلی میں صحابہ رضوان الله اجمعین اور اهلبیت علیهمالسلام کے مزارات پر بلڈوزر چلایا گیا اور تمام قبروں کی بے حُرمتی کر کے ان کو ملیامیٹ کر دیا
(بدقسمتی سے آج بھی کئی بھولے بھالے مسلمان انہی قبروں کو سنت کے مطابق سمجھتے ہیں حالانکہ 1922سے پہلے وہ ایسی نہ تھیں)حرم شریف کے جن دروازوں کے نام صحابہ اور اهلبیت کے نام پر تهےان کا نام آلسعود کے نام پر رکها گیا (آپ یہ ساری معلومات انٹرنیٹ کے علاوہ تمام تاریخ کی کتابوں میں بھی پڑھ سکتے ہیں)
انگریزوں نے اپنی اسی سازش کی کامیابی پر 1962 میں ہالی وُڈ نے ’ The Lawrence of Arabia‘‘ کے نام سے فلم بھی بنائی جو بہت زیادہ بار دیکھی جا چکی ہے۔
یہود و نصاری کو عرب میں آنے کی اجازت مل گئی جس دن ابن سعود عرب کا بادشاہ بنا اس دن اک جشن هوا اس جشن میں امریکہ ، برطانیہ اور دوسرے ملکوں کے پرائم منسٹر ابن سعود کو مبارک باد دینے پہنچ گئےجس عرب کے نام سے یہود و نصاری کانپتے تهے وه سعودیہ ‘ امریکہ کے اشارے پر ناچنے لگااور آج بهی رندوں کے ساتهہ ناچ رها هے
یہود و نصاری کی اس ناپاک سازش کا ذکر کرتے هوئے
“علامہ ڈاکٹر محمد اقبال نے اپنے کلام میں لکها هے۔
“وہ فاقہ کش جو موت سے ڈرتا نہیں ذرا
روح محمدﷺ اسکے دل سے نکال دو
فکر_عرب کو دے کر فرنگی تخیلات
اسلام کو حجاز اور یمن سے نکال دو