انجانی منزل

Share on facebook
Facebook
Share on twitter
Twitter
Share on linkedin
LinkedIn
Share on whatsapp
WhatsApp

تحریر : خادم رسول کیانی

دنیا میں سب سے خوبصورت پودہ خلوص کا ہوتا ہے جو زمین میں نہیں دلوں میں اگتا ہے اور جہاں خلوص اور احساس کے رشتے موجود ہوتے ہیں وہاں پھول موسموں کے محتاج نہیں ہوتے ۔۔۔۔آج اس نفسا نفسی کے دور میں کہاں گیا وہ خلوص ۔جو ہم نے بچپن میں دیکھا اورمحسوس کیا ۔۔۔جو ہر انسان کے دل میں موجود ہوتا تھا ۔۔نہ جانے کیا ہو گیا ہے زمانے والوں کو ۔۔۔۔۔ہر آدمی دوسرے کو حقارت کی نظر سے دیکھ رہا ہے ہر انسان دوسرے انسان کو بد تر سمجھتا ہے ہر انسان کے چہرے سے خوشی کیوں چھن گئی ہے؟

ہر آدمی ڈپریشن کا شکار ہے کیوں ؟

یہ کس کا قصور ہے ۔(صاحب اپنا ہی تو ہے )ہم نے مقدس رشتوں کو پامال کر دیا ہے ہم مغربی ڈھانچے میں ڈھل چکے ہیں ہم نے اپنے بچوں کو بھی اپنے دین اور اپنے کلچر سے دور کر دیا ہے ہم اپنی زبان تک بھول چکے ہیں.

نئے نئے طریقوں سے بچوں کی پرورش کر رہے ہیں تاکہ معاشرے میں ہمہارا سٹیٹس اونچا رہے ۔سلام کی جگہ شیک ہینڈ ۔۔ماں کوماما ۔باپ کو پاپا بہن کو دیدی اور جو حقیقی معتبر رشتے ہیں انہیں پس پردہ رکھ کر آنٹی اور انکل قرار دے دیا جس سے اپنائیت کی پہچان بھی ختم ہو گئی آہ ۔

وہ کتنے پیارے رشتے تھے جو آج ہم نے خاک میں ملا دئیے ہم جب کم عمری کے زمانے میں تھے تو جب بھی کسی سےمخاطب ہوتے تو اس رشتے سے پکارتے چچا جان ۔ماموں جان ۔ابوجان ۔خالہ جان پھپھو جان وغیرہ وغیرہ جب حقیقی رشتے سے مخاطب کرتے تھے تو دلی سکون ملتا تھا۔۔

دیکھنے اور سننے والوں کو یہ ظاہر ہو جاتا کہ اس کا اس بندے کے ساتھ کیا رشتہ ہے لیکن ہم نے تو خون کی قدر کرنا ہی چھوڑ دی ۔لوگ کہتے ہیں کہ آج زمانہ ہی بدل گیا ہے ارے عقل کے اندھو زمانہ تو وہی ہے ۔

میں کہتا ہوں آج کا انسان بدل گیا ہے زمانہ کیسے بدل سکتا ہے وہی سورج اپنی آب وتاب کے ساتھ طلوع ہوتا ہے اور اسی تسلسل کے ساتھ غروب بھی ہوتا ہے وہی چاند جو روزانہ معمول کے مطابق روشنیاں بکھیرتا ہے۔ستارے جھرمٹ کے جھرمٹ اسی طرح بڑی خوبصورتی کے ساتھ جگمگ جگمگ کر رہے ہیں موسم بھی بدلتے ہیں دھوپ اور چھاوں کا سلسلہ بھی ویسا ہی ہے پھول بھی اسی طرح کھلتے ہیں اور پرندے بھی چہچہاتے ہیں ہر چیز جوں کی توں ہے ۔اگر بدلہ ہے تو انسان ۔۔۔۔

ہم جدت کی طرف رواں دواں ہیں بلکہ جدت اختیار کر چکے ہیں ۔ہم خواہشوں کے آگے سر نگوں ہیں بلکہ خواہشات کے غلام بن چکے ہیں احساس ۔جزبات سے عاری ہو چکے ہیں اور کہتے ہیں کہ خون سفید ہو گئے ہیں.

حالانکہ خون کا بھی رنگ وہی ہے جو ازل سے تھا ہم صرف اپنے آپ کو جان بوجھ کر دھوکا دے رہے ہیں کہ خون سفید ہو گئے ہیں زمانہ بدل گیا ہےوغیرہ وغیرہ ۔کتنا بڑا جھوٹ ہے سب کچھ ایسا ہی ہے جو کئی سو صدیاں پہلے تھا ہاں ایک بات تو ضرور ہے کہ خون میں جو محبت تھی ۔جو اپنے پیاروں کے لئیے حدت تھی ۔جو پیار کا جزبہ تھا ۔جو احساس تھا وہ سب خواہشوں کی آگ میں جل کر راکھ ہو چکا ہے خون میں جو اپنوں کئلیے کشش تھی وہ ختم ہو چکی ہے ہر انسان اپنے اپنے خوابوں کی تکمیل کے لئیے کوشاں نظر آتا ہے پتہ نہیں ہمہاری منزل کونسی ہے لیکن انجانی منزل کو پانے کیلئے ہم رشتوں کو قربان کر رہے ہیں ماں باپ ہوں یا بہن بھائی ہمہارے لیئے کوئی بھی رشتہ مقدس نہیں رہا ۔۔یہ لمحہ فکریہ ہے۔۔

دنیا میں سب سے خوبصورت پودہ خلوص کا ہوتا ہے جو زمین میں نہیں دلوں میں اگتا ہے اور جہاں خلوص اور احساس کے رشتے موجود ہوتے ہیں وہاں پھول موسموں کے محتاج نہیں ہوتے ۔۔۔۔آج اس نفسا نفسی کے دور میں کہاں گیا وہ خلوص ۔جو ہم نے بچپن میں دیکھا اورمحسوس کیا ۔۔۔جو ہر انسان کے دل میں موجود ہوتا تھا ۔۔نہ جانے کیا ہو گیا ہے زمانے والوں کو ۔۔۔۔۔ہر آدمی دوسرے کو حقارت کی نظر سے دیکھ رہا ہے ہر انسان دوسرے انسان کو بد تر سمجھتا ہے ہر انسان کے چہرے سے خوشی کیوں چھن گئی ہے؟ ہر آدمی ڈپریشن کا شکار ہے کیوں ؟ یہ کس کا قصور ہے ۔(صاحب اپنا ہی تو ہے )ہم نے مقدس رشتوں کو پامال کر دیا ہے ہم مغربی ڈھانچے میں ڈھل چکے ہیں ہم نے اپنے بچوں کو بھی اپنے دین اور اپنے کلچر سے دور کر دیا ہے ہم اپنی زبان تک بھول چکے ہیں نئے نئے طریقوں سے بچوں کی پرورش کر رہے ہیں تاکہ معاشرے میں ہمہارا سٹیٹس اونچا رہے ۔سلام کی جگہ شیک ہینڈ ۔۔ماں کوماما ۔باپ کو پاپا بہن کو دیدی اور جو حقیقی معتبر رشتے ہیں انہیں پس پردہ رکھ کر آنٹی اور انکل قرار دے دیا جس سے اپنائیت کی پہچان بھی ختم ہو گئی آہ ۔ وہ کتنے پیارے رشتے تھے جو آج ہم نے خاک میں ملا دئیے ہم جب کم عمری کے زمانے میں تھے تو جب بھی کسی سےمخاطب ہوتے تو اس رشتے سے پکارتے چچا جان ۔ماموں جان ۔ابوجان ۔خالہ جان پھپھو جان وغیرہ وغیرہ جب حقیقی رشتے سے مخاطب کرتے تھے تو دلی سکون ملتا تھا۔۔دیکھنے اور سننے والوں کو یہ ظاہر ہو جاتا کہ اس کا اس بندے کے ساتھ کیا رشتہ ہے لیکن ہم نے تو خون کی قدر کرنا ہی چھوڑ دی ۔لوگ کہتے ہیں کہ آج زمانہ ہی بدل گیا ہے ارے عقل کے اندھو زمانہ تو وہی ہے ۔میں کہتا ہوں آج کا انسان بدل گیا ہے زمانہ کیسے بدل سکتا ہے وہی سورج اپنی آب وتاب کے ساتھ طلوع ہوتا ہے اور اسی تسلسل کے ساتھ غروب بھی ہوتا ہے وہی چاند جو روزانہ معمول کے مطابق روشنیاں بکھیرتا ہے۔ستارے جھرمٹ کے جھرمٹ اسی طرح بڑی خوبصورتی کے ساتھ جگمگ جگمگ کر رہے ہیں موسم بھی بدلتے ہیں دھوپ اور چھاوں کا سلسلہ بھی ویسا ہی ہے پھول بھی اسی طرح کھلتے ہیں اور پرندے بھی چہچہاتے ہیں ہر چیز جوں کی توں ہے ۔

اگر بدلہ ہے تو انسان ۔۔۔۔ ہم جدت کی طرف رواں دواں ہیں بلکہ جدت اختیار کر چکے ہیں ۔ہم خواہشوں کے آگے سر نگوں ہیں بلکہ خواہشات کے غلام بن چکے ہیں احساس ۔جزبات سے عاری ہو چکے ہیں اور کہتے ہیں کہ خون سفید ہو گئے ہیں حالانکہ خون کا بھی رنگ وہی ہے جو ازل سے تھا ہم صرف اپنے آپ کو جان بوجھ کر دھوکا دے رہے ہیں کہ خون سفید ہو گئے ہیں زمانہ بدل گیا ہےوغیرہ وغیرہ ۔کتنا بڑا جھوٹ ہے سب کچھ ایسا ہی ہے جو کئی سو صدیاں پہلے تھا ہاں ایک بات تو ضرور ہے کہ خون میں جو محبت تھی ۔جو اپنے پیاروں کے لئیے حدت تھی ۔جو پیار کا جزبہ تھا ۔جو احساس تھا وہ سب خواہشوں کی آگ میں جل کر راکھ ہو چکا ہے خون میں جو اپنوں کئلیے کشش تھی وہ ختم ہو چکی ہے ہر انسان اپنے اپنے خوابوں کی تکمیل کے لئیے کوشاں نظر آتا ہے پتہ نہیں ہمہاری منزل کونسی ہے لیکن انجانی منزل کو پانے کیلئے ہم رشتوں کو قربان کر رہے ہیں ماں باپ ہوں یا بہن بھائی ہمہارے لیئے کوئی بھی رشتہ مقدس نہیں رہا ۔۔یہ لمحہ فکریہ ہے۔۔

آج نسوانی خوبصورتی کو قائم رکھنے کیلیے مائیں اپنے بچوں کو دودھ تک نہیں پلاتیں جب فیڈر کا دودھ پی کر بچہ جوان ہو گا تو آپ سوچ لیں اس کا (بیحیف )۔اس کا رویہ آپ کے ساتھ کیا ہو گا گائے یا بھیس کا دودھ پی کر جوان ہونے والے اس بچے پر آپ کیا امید کر سکتے ہیں کہ اس کے دل میں کسی انسان کیلیے وہ محبت یا وہ جزبات ہونگے جو حقیقی ماں کے دودھ کی وجہ سے ہو سکتے ہیں ۔یہ سب ہمہرا اپنا قصور ہے آج ہم نے اپنی اولادوں کو بڑے بڑے برینڈ کے موبائل فون خرید کر دیئے ہیں لیکن اس کے نقصانات کیا ہیں یہ ہمیں علم ہی نہیں صرف ان کی جائز و نا جائز خواہش کو پورا کرنا اپنا فرض عین سمجھتے ہیں لیکن اس کے اثرات کتنے بھیانک ہیں کبھی سوچا ہے ہم نے۔۔۔۔کہ ہمہاری آنے والی نسلیں تباہ و برباد ہو سکتی ہیں ۔۔

کبھی سوچا ہے؟ کیبل اور فیس بک نے ہمہارے معاشرے کو غلاظت کی طرف دھکیل دیا ہے۔۔ کبھی سوچا ہے ؟ ہم فحاشی کے سمندر میں ڈوب چکے ہیں اور بچنے کا کوئی بھی راستہ نہیں ہے ۔۔۔۔۔کبھی سوچا ہے ؟ خدارا سوچیں اور بچا لیں اس نسل نو کو ۔ہم کس منزل کی طرف جا رہےہیں اور ہمہاری اصل منزل کونسی ہے ۔کبھی سوچا ہے۔۔ ہم نے رشتوں کے معنی بدل دیئے
ہم نے سکولوں کے سلیبس بدل دیے
ہم نے اپنی خوبصورت زباں بدل دی
ہم نے اپنا پیارا کلچر بدل دیا
ہم نے آسمان سے اتری کتاب قران پاک کو پڑھنا چھوڑ دیا اور الماریوں میں سجا کر رکھ دیا
ہم نے بیٹی کو رخصتی کےوقت قران تو دے دیا لیکن پڑھانا بھول گئے
واہ رے مسلمان ۔
کتنا بے بس ہے تو
مِیں خود اس قابل نہیں کہ کسی کو نصیحت کر سکوں میں بھی آپ جیسا ہی ہوں میں بھی آپ کی طرح مجبور ہوں اسی معاشرے کا حصہ ہوں شائد ہم سب اب اس غلاظت سے نہ بچ سکیں لیکن پھر بھی ہمیں آنے والی نسلوں کو بچانے کیلیے اپنا کردار ادا کرنا ہو گا یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ انگریز بازی لے گیا ہے غیر مزاہب جو چاہتے تھے وہی ہم نے اپنا لیا ہے ہمہاری جنریشن کمزور سے کمزور تر ہوتی جا رہی ہے کیونکہ ہم نے جدت کو ہی ایکسپٹ کر لیا ہے کیبل ۔موبائل ۔نیٹ کے بغیر زندگی ادھوری سمجھ رہے ہیں اور یہی ہمہاری تباہی کا باعث ہے پچاس برس قبل اگر نظر دوڑاتا ہوں تو ایک خواب سا لگتا ہے اس وقت یہ سوچنا بھی ناممکن تھا کہ اتنی جدت ہمہاری میں آئے گی لیکن دیکھتے ہی دیکھتے اس بے حیائی کی آگ نے ہم سب کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور ہم سب اس آگ میں جھلس رہے ہیں لیکن اپنے آپ کو بچانے کیلئے ہمہارے پاس کوئی بھی حفاظتی اقدامات نہیں ہیں اور نہ ہی ہم بچنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ایک انجانی منزل کی طرف گامزن ہیں دعا ہے اللہ ہمہیں اس ناگہانی آفت سے محفوظ رکھے آمین ۔۔