زکوۃ نے ٹڈی دل کو شکست دی

Share on facebook
Facebook
Share on twitter
Twitter
Share on linkedin
LinkedIn
Share on whatsapp
WhatsApp

پہلی جنگ عظیم کے دوران شام پر ٹڈی دل نے حملہ کیا اور باغات اور فصلوں کو تباہ کر دیا جس کی وجہ سے قحط آ گیا اور بہت ساری مخلوق موت کے گھاٹ اتر گئی۔

اس دوران غوطہ کے گاؤں داریا میں ایک شخص کا باغ بالکل محفوظ اور تروتازہ رہا۔
ٹڈی دل نے اس کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا۔

چنانچہ لوگوں نے حکومت سے شکایت کی کہ اس شخص کے پاس ٹڈی دل کو مارنے کی دوا موجود تھی لیکن اس نے کسی کو اس کا نہیں بتایا۔

اس پر حکومت نے ایک فوجی دستہ اس کو سزا دینے کے لئے بھیجا۔
افسر نے اس شخص پر کوڑا اٹھایا اور پوچھنے لگا کہ تم نے اس دوا کو حکومت اور عوام سے کیوں مخفی رکھا ؟

وہ بولا کہ جو دوا میں استعمال کرتا ہوں وہ سب کو معلوم ہے لیکن کوئی بھی اسے استعمال نہیں کرنا چاہتا۔

افسر نے پوچھا کہ وہ دوا کیا ہے؟
اس نے جواب دیا کہ زکوٰۃ ۔

افسر کہنے لگا کہ کیا ٹڈی دل زکوۃ دینے اور نہ دینے والے باغ میں فرق کر سکتا ہے؟

وہ شخص کہنے لگا تجربہ کرکے دیکھ لیں ۔

چنانچہ فوجی ٹڈیاں اس باغ میں چھوڑتے تھے اور وہ وہاں سے بھاگ جاتی تھیں۔

اس کے بعد اس شخص نے یہ حدیث سنائی کہ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’اپنے مال کی حفاظت زکوٰۃ سے کرو،
مریضوں کا علاج صدقے سے
اور بلاؤں کی لہروں کا استقبال اللہ کے سامنے عاجزی سے کرو۔‘‘

زکوة نے ٹڈی دل کو شکست دے دی تھی ،
تو کیا ہمارے دکھوں تکلیفوں پریشانیوں بیماریوں مصیبتوں کو بھی شکست دے دے گی؟

اس دوا کو اپنی زندگی میں اپلائی کرکے خود چیک کر لیں

میرے آقا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے فرمان مبارک ہمیشہ کے لئے سچے ہیں

تحریر :سرائیکی نیوز پاکستان