پاکستان میں ٹڈی دل کا کاروبار

Share on facebook
Facebook
Share on twitter
Twitter
Share on linkedin
LinkedIn
Share on whatsapp
WhatsApp

ٹڈیوں کے حملوں میں اضافے کے بعد پاکستان کے ضلع اوکاڑہ میں ایک جدید پائلٹ پروجیکٹ نے ایک بہترین حل پیش کیا ہے جس میں کاشتکار ٹڈیوں کو چکیوں کے ذریعے اعلیٰ پروٹین چکن فیڈ میں بدل کر پیسہ کماتے ہیں۔

وزارت قومی فوڈ سیکورٹی اینڈ ریسرچ میں سول ملازم،محمد خورشید اور پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل کے ایک بائیوٹکنالوجسٹ جوہر علی کا مشورہ تھا جس پر کام کیا گیا،علی کا کہنا ہے کہ ایسا کرنے پر ہمارا مذاق اڑایا گیا تھا ، کسی نے نہیں سوچا تھا کہ لوگ واقعی ٹڈیوں کو پکڑ کر بیچ سکتے ہیں۔

خورشید کا کہنا ہے کہ وہ مئی 2019 میں یمن میں ایک مثال سے متاثر ہوئے تھے۔اس جنگ سے متاثرہ ملک میں قحط کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور بہتر یہی ہے کہ ٹڈیوں کو فصل کھانے سے پہلے ہی کھا لو۔

ٹڈی دل کو پکڑنے اور بیچنے کے لئے انہوں نے ضلع اوکاڑہ کا انتخاب کیا، کیونکہ یہ پاکستان کے صوبہ پنجاب کا ایک بہت زیادہ آبادی والا دیہی علاقہ ہے۔

انہوں نے دیپالپور کے پہاڑ جنگل میں تین روزہ آزمائشی پروجیکٹ قائم کیا،جہاں فروری 2020 کے وسط میں ٹڈیوں کے ایک جم غفیر کی اطلاع ملی تھی۔جنگل کے علاقے کو اس لئے منتخب کیا گیا تھا کیونکہ اس میں کیڑے مار دوا سے آلودہ ہونے کا امکان کم تھا۔

ٹڈیوں کو پکڑو اور پیسہ کماؤ کا نعرہ لگاتے ہوئے کسانوں کو ایک کلو ٹڈی پر 20 روپے دینے کی پیشکش کی گئی،کسانوں نے ٹڈیوں کو پکڑنا شروع کر دیا،اور تقریبا 20 ہزار پاکستانی روپوں کی ٹڈیاں پروجیکٹ کو فروخت کی گئیں، بعد میں ان کی چکن فیڈ بنائی گئی۔

ہائی ٹیچ فیڈ کے جنرل منیجر جو پاکستان میں سب سے بڑے مرغی اور جانوروں کی خوراک بنانے والا ادارہ ہے کی رفم نے پانچ ہفتوں کی تحقیق کے بعد مرغیوں کی ٹڈیوں سے بنی فیڈ کھلائی جس کے نتائج مثبت نکلے اور مرغیوںکو کوئی مسئلہ نہیں ہوا ہے۔

ادارے کا کہنا تھا کہ اگر ہم ان ٹڈیوں کو بغیرا سپرے کے پکڑ لیں تو ان کی حیاتیاتی قیمت زیادہ ہے اور ان میں مچھلی ، پولٹری اور یہاں تک کہ دودھ کے کھانے میں بھی استعمال کرنے کی اچھی صلاحیت موجود ہے۔

پاکستان میں ایک اندازے کے مطابق 1.5 بلین مرغیوں کے علاوہ مچھلی کے متعدد فارموں کی پرورش کی جا رہی ہے – یہ سب ممکنہ طور پر اعلی پروٹین ٹڈی کھانا خرید سکتے ہیں۔

ٹڈیوں کو خشک کرنے اور پروسیسنگ لاگت 30 روپے فی کلو ہے۔چونکہ پاکستان سویا بینوں کی درآمد کرتا ہے،اسے غیر ملکی زرمبادلہ کے اخراجات میں بھی خاطر خواہ بچت نظر آتی ہے۔

ٹڈی دل پکڑکر بیچنے والے شہری کا کہنا ہے اس ایک رات میں بیس ہزار روپے کمائے ہیں, ٹڈی دل مرغیوں کی خوراک تیار کرنے والی فیکٹریاں خریدرہی ہیں۔

بے روزگار شہریوں کو چاہیے کہ وہ اس کام میں لگ جائیں ان کا روزگار کا مسائل بھی حل ہوجائیگا اور فصلوں کو بھی کسی حد تک نقصان سے بچایا جاسکتا ہے۔

اوکاڑہ کے شہریوں کا مزید کہنا تھا کہ ٹڈی دل کا اس بار پاکستانیوں سے واسطہ پڑا ہے لوگوں نے ٹڈی دل پکڑ کر بورے بھر لیے اوربڑی تعداد میں ٹڈی دل کو شہری فروخت کررہے ہیں شاید یہی ٹڈی دل کے خاتمہ کا بہترین حل ہے۔