چین نے بھارت کا 60 مربع کلو میٹر سے زائد رقبہ اپنے کنٹرول میں لے لیا

Share on facebook
Facebook
Share on twitter
Twitter
Share on linkedin
LinkedIn
Share on whatsapp
WhatsApp

چین نے نیچےنقشے دیے گئے ان تین مقامات پر 60 مربع کلو میٹر سے زائد رقبہ اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے.

چین ان تینوں مقامات پر تیزی سے پکے بنکرز اور پتھر کے بند بنا رہا ہے. جبکہ چین کے فائٹر طیارے علاقے پر مسلسل پروازیں کر رہے ہیں۔ چینی فوج کو آرٹلری کی بھی سپورٹ حاصل ھے۔

چینی حکام سے مذاکرات کیلیے بھارت کی مسلسل تیسری بار رابطے کی اپیل بالآخر چینی فوجی حکام نے قبول کر لی اور چین بھارت کے مابین ایک میٹنگ کا انعقاد ھوا جس کا کوئی خاطرخواہ نتیجہ نہیں نکلا۔ بلکہ چین کے مطالبات سن کر بھارتی وفد کے پاؤں تلے سے زمین سرک گئی۔

میٹنگ میں چینی فوجی حکام کا رویہ انتہائی سخت تھا جبکہ بھارتی حکام کا رویہ انتہائی معذرت خواہانہ تھا۔ میٹنگ کی ناکامی کی بڑی وجہ یہ تھی کہ بھارت نے چین سے مطالبہ کیا کہ لداخ ریجن کا جنگ سے پہلے کا پرانا سٹیٹس بحال کر دیا جائے۔

یعنی جنگ سے پہلے جو علاقے بھارت کے پاس تھے وہ واپس بھارت کو دیے جائیں اور جس جگہ چینی افواج تھیں، اب دوبارہ چینی افواج اس جگہ واپس چلی جائیں۔ چینی ملٹری حکام نے بھارتی وفد کو انتہائی سخت لہجے میں دو ٹوک انکار کر دیا۔

چینی ملٹری حکام نے بھارت سے کہا کہ بھارت نے جو نیپال کی جانب سے سڑک بنانے کا فیصلہ کیا ھے فی الفور اس سڑک کی تعمیر روکے۔ اور اعلان کرے کہ ھم یہ سڑک نہیں بنائیں گے۔ چین کے مقابلے میں بھارت امریکی حمایت ترک کرے اور امریکہ چین معاملات میں بالکل غیر جانبدار رھے۔

سب سے اھم چینی حکام نے بھارتی مشن کو بڑے صاف اور واضع الفاظ میں بتا دیا ھے کہ بھارت اگر گلگت بلتستان پر یا دیامیر بھاشا ڈیم پر حملہ کرنے کی کوشش کرتا ھے تو یہ دونوں چین کے اھم ترین مفادات ھونے کی وجہ سے وہ حملہ چین پر تصور کیا جائیگا۔ اور اسکے نتائج بھارت بھگتے گا۔

بھارت اگر دیامیر بھاشا ڈیم کا کیس بین الاقوامی عدالت میں لے جانے کی کوشش کرتا ھے تو چین لداخ کے مزید اندر گھسے گا اور لداخ سے ملحقہ تمام سات بھارتی ریاستوں میں صورتحال خراب ھو جائے گی. اسکے علاوہ ڈی بی او لنک (دولت بیگ لنک) سڑک جو کہ کارگل کی طرف جانے والا واحد سپلائی روٹ ھے۔ ھم اس کو کاٹ دیں گے۔