سپریم کورٹ میں کورونا از خود نوٹس کی سماعت

Share on facebook
Facebook
Share on twitter
Twitter
Share on linkedin
LinkedIn
Share on whatsapp
WhatsApp

سپریم کورٹ کا وفاقی حکومت کو قانون سازی کا حکم عدالت نے ہفتہ اور اتوار کو مارکیٹیں کھولنے کا حکم واپس لے لیا.

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کو کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کےلیے قانون سازی کی ہدایت کردی۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے چار رکنی بینچ نے کورونا وائرس از خود نوٹس کیس کی سماعت کی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ حکومت نے تاحال کورونا سے تحفظ کی قانون سازی نہیں کی، قومی سطح پر کوئی قانون سازی ہونی چاہیے جس کا اطلاق پورے ملک پر ہوگا، ملک کے تمام ادارے کام کرسکتے ہیں تو پارلیمنٹ کیوں نہیں؟ چین نے بھی کورونا وبا سے نمٹنے کے لیے فوری قانون بنائے۔

اٹارنی جنرل پاکستان خالد جاوید خان نے بتایا کہ وفاقی حکومت کورونا تحفظ کے اقدامات کر رہی ہے، ایس او پیز پر عمل درآمد بھی یقینی بنائے گی، صوبوں کی جانب سے قانون سازی کی گئی ہے، وفاقی حکومت کو بھی قانون سازی کی تجویز دوں گا۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ کورونا وائرس کسی صوبے میں تفریق نہیں کرتا اور لوگوں کو مار رہا ہے، وفاقی حکومت کو اس معاملے پر رہنما کردار ادا کرنا چاہیے، وہ کورونا سے بچاؤ کے لیے قانون سازی کرے، آپ کے پاس اب وقت نہیں رہا ، ایک لاکھ سے زائد کورونا مثبت کیس آگئے ہیں۔

جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ عدالت لوگوں کے بنیادی حقوق کی بات کررہی ہے، زندگی کا تحفظ سب سے بڑا بنیادی حق ہے، موجودہ حالات میں لوگوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں، پریس کانفرنس کے ذریعے عوام کا تحفظ نہیں ہو گا بلکہ قانون بننے اور اس پر عمل سے ہوگا۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ہدایت کی کہ ڈاکٹرز کو حفاظتی سامان ہر حال میں دستیاب ہونا چاہیے، خدانخواستہ حفاظتی سامان نہ ہونے سے کوئی نقصان ہوا تو تلافی نہیں ہوگی، طبی ورکرز کی ہلاکت پر وزیر اعلیٰ صرف جا کر معاوضے کا اعلان کر دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں میں بھی تاحال آگاہی نہیں آئی، عید کے موقع پر انہوں نے ایس او پیز کو نظر انداز کر دیا۔ عدالت ایسی چیزوں کی صرف نشاہدہی کرسکتی ہے، قانون سازی کے عملی اقدامات ہر حال میں حکومت نے کرنے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ پولیس والوں کو دکانداروں اور خریداروں سے پیسے لینے کی اجازت دے دی گئی ہے، کس طرح سے ایس او پیز پر عمل ہوگا۔

عدالت نے ہفتہ اور اتوار کو مارکیٹیں کھولنے کا حکم بھی واپس لے لیا جبکہ حکومت سے ملک میں ٹڈی دل حملوں کے نقصانات کی تفصیلات بھی طلب کرلیں

جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کا کہنا تھا کہ قانون سازی کرنا وفاقی حکومت کے حق میں ہے وفاقی حکومت کی ذمہ داری بہت زیادہ ہے، کورونا سے تحفظ کا حل قانون سازی ہے اور قانون سازی کرنا وفاقی حکومت کے حق میں ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں ہے وقت سب سے بڑا اثاثہ ہے، وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا، ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں رہا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہم بھی کورونا وائرس کی شدت کو محسوس کر رہے ہیں جب کہ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ ڈاکٹرز کو حفاظتی سامان ہر حال میں دستیاب ہونا چاہیے۔

سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کو کورونا سے بچاؤ کے لیے اقدامات کرنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے کورونا ازخود نوٹس کی سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی۔