شادی ہال مالکان کے ساتھ امتیازی سلوک

Share on facebook
Facebook
Share on twitter
Twitter
Share on linkedin
LinkedIn
Share on whatsapp
WhatsApp

شادی ہال مارکی سے منسلک لاکھوں لوگوں کا صبر کا پیمانہ لبریز ہونے لگا.

تفصلات کے مطابق لاہور (خادم رسول کیانی سے) کرونا وائرس اور لاک ڈاون نے پاکستانی عوام کی چیخیں نکال دی ہیں کاروبار بند ہونے کی وجہ سے متوسط طبقے کے لوگ مفلسی کا شکار ہو نے لگے سفید پوش لوگ کسی کے آگے ہاتھ بھی نہیں پھیلا سکتے.

حکومت نے لوگوں کو ریلیف دینے کیلیے احسن اقدام لیا لاک ڈان میں نرمی کر دی تاکہ غریب لوگ ایس او پیز کے حصول کے تحت اپنے بچوں کیلیے روٹی کما سکیں مگر ایس او پیز پر مکمل عمل نہیں نہ ہو سکا یہ حکومت کی نااہلی ہے حکومت سختی سے عمل کروانے میں ناکام رہی ہے اور عوام بھی اس کے زمہ دار ہیں کہ اس پر پوری طرح عمل نہیں کر سکے اس وقت کاروبار وقت کی پابندی کی شرط پر مکمل طور پر کھلے ہیں لیکن شادی ہالز مارکی کے مالکان کے ساتھ امتیازی سلوک کیوں ہو رہا ہے

شادی ہالز کے ساتھ لاکھوں لوگ بے روزگار ہو چکے ہیں جن کا کوئی بھی پرسان حال نہیں ہے مثلا کیٹرنگ والے. باورچی کیمرہ مین. مووی میکر. ویٹر شادی ہالز کے ملازم .چوکیدار .دیگر لاکھوں لوگ جن کی روزی روٹی کا واحد زریعہ شادی ہال ہی تھا ان کے چولہے صرف ٹھنڈے ہی نہیں ہوئے مکمل بند ہو چکے ہیں شادی ہالز کے مالکان کا کہنا ہے کہ اب صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے

اس سے قبل کہ ہم لوگ سڑکوں پر نکل آہیں شادی ہالز کھولنے کی اجازت دی جائے ہم مکمل ایس او پیز پر ہدائیت کے مطابق عمل کرنےکو تیارہیں شادی ہالز کے وزٹ کے دوران کچھ مالکان نے کہا کہ لاکھوں روپے ماہانہ کرایہ ادا کر رہے ہیں کب تک کریں گے

ہم میں اتنی سکت نہیں ہے انہوں نے کہا کہ حکومت ہمہارے ساتھ امتیازی سلوک کرنے کی بجائے ہماری اور ہمہارے ساتھ منسلک لوگوں کی مدد کرنی چاہیے کیٹرنگ. کیمرہ مین. مووی میکر. ویٹر اودیگر لوگ جن کا روزگار صرف شادی ہالز کیوجہ سے چلتا ہے وہ سب بھوک سے مر رہے ہیں ان کے لیے خصوصی امداد کا اعلان کیا جائے تاکہ وہ غریب جو یومیہ کی بنیاد پر مزدوری کرتے تھے اور بچوں کی بمشکل پرورش کر رہے تھے ان کی مشکلات میں کمی آ سکے